ایک ایسی کیانی جو لڑکوں کے لن اور لڑکیوں کی پھدی سے پانی نکال دے ‫ """دوپہر کی شہزادی"""" .قسط نمبر ایک میں آپ لوگوں کا ایڈمن، نام احمد ہے اور ہاٹ پرندا نک نیم ہے، عمر 25 سال ہے اور جوانی وبال ہے، جومجھ سےملے سو نہال ہے اور ایک کھاتے پیتے قصبے میں رہتا ہوں (قصبے پر ہی فخر کر سکتا ہوں ورنہ اپنا تو کوئی حال نہیں)،،،،، آتے ہیں کہانی کی طرف، ایک دن گھر کے سب لوگ ایک شادی میں گۓ ہوۓ تھے، میں چونکہ تھوڑا کھڑوس واقع ہوا ہوں اس لیے کہیں کم ہی آتا جاتا ہوں، اسی عادت کی وجہ سے میں گھر ہی رک گیا، (یہ الگ بات ہے کہ سب گھر والے باری باری ہلکی آنچ پر حسب توفیق میری عزت افزائی کر کے رخصت ہوئے). شادی چونکہ کسی دور کے رشتے دار کی تھی جو کہ رہتا بھی تھوڑا دور ہی تھا اس لیۓ پورا دن " مست محول" ہونا تھا، میں نے گلی والا دروازہ بند کیا، کمرے میں آ کر کانوں میں بقول امی کے " ٹوٹیاں" لگائیں اور گانے سننے لگا، اور ساتھ ساتھ اپنی" گلوکاری "بھی جاری تھی،، جیسے جیسے دن چڑھتا گیا میرا موڈ بھی بدلتا گیا، پھر آخری گانا سنا، """تو پھر آؤووووووو،،،،،، مجھ سے چداؤوووووو """"تو پھر آؤوووووووو پھدی کا پانی بہاؤووو""" اس کے بعد میں نے پورن کا فولڈر کھولا اور فلمیں دیکھ دیکھ "انھیر" مچا دی،، بندہ ایسی فلمیں دیکھے اور لن کو نہ مسلے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، خیر میں بھی "دبا دبا " کر مٹھ لگا رہا تھا کہ مجھے لگا کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، مٹھ لگا لگا کر لن کے بھی ڈیلے باہر آ چکے تھے، میرے اٹھنے سے اس نے بھی شکر کیا،،،، جون کا مہینہ تھا اور دن کے بارہ بج چکے تھے، دیہاتی لوگ دن کو کم ہی باہر نکتے، میں نے سوچا کون ہو سکتا ہے اس وقت؟ دروازے پر پھر سے دستک ہوئی، میں نے جا کر دروازہ کھولا تو باہر ایک 28 یا تیس سال کی بھیک مانگنے والی کھڑی تھی جو پسینا پونچھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کیونکہ جتنا وہ صاف کرتی اس سے زیادہ نکل آتا، اس نے کہا "بابو ٹھنڈا پانی پلا دو اور کچھ پیسے بھی دو" میں نے سوچا بار بار کون باہر آئے گا، اس لیے اسے بولا اندر آ جاؤ اور دروازہ بند کر کے اسے اندر بیٹھک میں لے آیا، چونکہ اس قسم کے لوگ پانی کے بہانے اندر آ کر لوگوں کے گھروں کا جائزہ لیتے ہیں اور بعد میں باقی ساتھوں کے ساتھ مل کر گھر کا صفایا کر جاتے ہیں اس لیے میں محتاط تھا اور اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا، میں نے اسے پانی پلایا، کیونکہ پنکھا چل رہا تھا تو تھوڑی ہی دیر میں اسکا پسینہ خشک ہو گیا، میں نے اسے دس روپے دئیےتو وہ بولی "بابو دس روپے میں پھدی مارو گے کیا؟ " اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اور بولا تمہیں کس نے کہا میں تمہاری پھدی ماروں گا تو وہ ہاتھ نچا کر بولی" بابو ڈرامےنہ کر اتنی دیر سے گھور گھور کر دیکھ رہے تھے اور لوڑا بھی کھڑا کیا ہواہے، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے سب پتا ہے مجھے تم مردوں گا،" حالانکہ میں اسے کسی اور وجہ سے دیکھ رہا تھا لیکن میں نے سوچا موقع اچھا ہے اور اس سے پوچھا کتنے پیسے لو گی؟ وہ بولی بابو لگتے تو شریف ہو( جو کہ اس کی سوچ تھی) اس لیے تم سے دو سو لوں گی، حالانکہ پیسے کم تھے لیکن میں نے سوچا ایک دم سے راضی ہو گیا تو یہ کیا سوچے گی، میں بولا میرے پاس تو 150 روپے ہیں، تو وہ بولی شریف تو ہو پر کمینے بھی ہو، بات اگرچہ سچ تھی اور میں نے ابھی اسکی پھدی بھی مارنی تھی تو اس لیے میں نے غصہ نہ کیا ورنہ بھکاریوں سے کون بےعزتی کرواتا ہے بھلا؟ میں نے اس سے نام پوچھا تو وہ بولی "رسیداں" ( مطلب رشیداں ،پانامہ والی رسیداں نہیں) ، میں جب رشیداں کے قریب ہوا تو مجھے پسینے کی بو آئی، میں نے سوچا ایسے مزا نہیں آئیے گا، اور اسے کہا " رشیداں تم نہا لو" وہ بھی گرمی کی ماری ہوئی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی، ، میں نے اسے باتھ روم کا راستہ دکھایا اور وہ نہانے چلی گئی، میں وہیں بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد وہ نہا کر آئی تو اسے دیکھ کر لن فٹافٹ بول"ا استاد آج تو فل مزے ہوں گے تم نے تو رگڑ رگڑ کے میری کھچڑی بنا دینی تھی" خیر وہ دوپٹے کے بغیر تھی اور بھیگا بدن، 36 کے ممے ہوں گے، 32 کی کمر اور 38 کی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ، فگر دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی اور اس سے پوچھا" تم بھکارن لگتی تو نہیں ہو" وہ اداس مسکراہٹ کے ساتھ بولی، بابو مجبوری سب کچھ کروا لیتی ہے، میں نے بات مزید آگے نہ بڑھائی اور اسے پکڑ کر قریب کیا، اس نے بھی بے باقی سے میرا لن پکڑ لیا، میں نے اسکے ممے پکڑنے چاہے تو اس نے مجھے روکا اور جلدی سے قمیض اتار دی، نیچے اس نے کچھ نہیں پہنا تھا 36 سائز کے ننگے، سانولے نرم و ملائم ممے اور اوپر ہلکے کالے رنگ کے نپل، دیکھ کر ہی سرور سا آنے لگا، میں نے پہلے دائیں نپل پر زبان پھیری اور چاٹنے لگا، بائیں ممے کو ہاتھ سے پکڑ کر دبانے لگا،،، اب میں نے اسکا نپل منہ میں لیا اورچسس چسس ،،،،،،،،،،کی آواز کے ساتھچوسنے لگا، ہونٹوں میں پکڑ کر دبانے لگا، ہلکے ہلکے کاٹنے لگا،،، میں نے پورا مما کھانے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن مما بڑا ہونے کی وجہ سے منہ میں نہ آیا، یہ دیکھ کر رشیداں بولی" بابو کافی بھوکے لگتے ہو، چلو میں آج تمھاری ساری بھوک مٹا دوں گی" یہ کہہ کر رشیداں نے میرا سر پکڑا اور اور اپنے نرم و ملائم ممے پر دبانے لگی کچھ دیر میں نے اس کا دائیاں مما چوسا اور پھر بائیں ممے پر زبان پھیرنے لگا، اب رشیداں کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکاریاں نکلنے لگیں، اس نے اپنا مما پکڑا اور تقریباً میرے منہ میں ٹھونسنے کی کوشش کی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہٹایا اور دوسرے ممے کی طرح اس کو بھی خووووووووووووووووووب چوساااا اور چاٹااا،،،،،،،،،،، رشیداں کی منہ سے سسکاریوں کا طوفان نکلنے لگا، وہ بولی"""" بابو کھا جاؤو میرے ممےےےےےے،،،،""""""آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہہہہہہ، کافی دیر ممے چوسنے کے بعد میں نے اسے کھڑا کیا اور اسکی شلوار اتار دی، واہہہہہہہہہہہہہہہہ،،،،،، گیلی چمکتی ہوئی پھدیییییییی،،،،، جس پر مناسب گوشت تھا، مطلب لن پھنس کر جاتا، میں اس کی چکنی پھدی دیکھ کر مدہوش ہو رہا تھا اتنے میں وہ بولی" بابو تم نے تو کچھ دکھایا ہی نہیں" یہ بول کر اس نے میرے کپڑے اتارنے چاہے تو میں نے اسے روک کر خود ہی اپنے کپڑے اتارے، اب ہم دونوں ننگے تھے،، اس نے مجھے چارپائی پر لٹایا اور بولی، بابو تم بس لیٹے رہو میں آج تمہاری بھوک مٹاؤں گی، یہ کہی کر اس نے منہ نیچے کیا اور میرے ٹٹوں پر ہونٹ رکھ دیۓ، مجھے مزے کا جھٹکا لگا لیکن میں چپ رہا، اس نے میرا ننگا ساڑھے چھ انچ کا لن ہاتھ میں پکڑا (جی ہاں میرے پاس کوئی جن کا لن نہیں ایورج اتنا ہی ہوتا ہے) اور سہلانے لگی، میرے ٹٹوں پر پہلے اس نے زبان پھیری ،،،،تھوک سے خوب گیلے کرنے کے بعدبولی "بابو میں تمہارے ٹٹے چوسنے لگی ہوں، " یہ بول کر اسنے میرا دائیاں ٹٹہ منہ میں ڈالا اور چوسنے لگی اور ساتھ ساتھ میرے لن پر بھی ہاتھ پھیر رہی تھی، اور جو ٹٹہ منہ میں تھا اس پر زبان بھی پھیر رہی تھی، مزے سے میری آنکھیں بند ہو چکی تھیں، رشیداں اپنی ہی دھن میں ٹٹہ چوسے جا رہی تھی پھر اس نے ہونٹ دبا کر منہ اپنی طرف کھینچا تو میرا ٹٹہ پھکککک کی آواز کے ساتھ اس کے گرم منہ سے باہر آ گیا، اب اس نے بائیاں ٹٹہ منہ میں ڈالا اور پہلے کی طرح اس کو بھی چوسنے لگی اور زبان پھیرنے لگی، کچھ دیر کے بعد اس نے میرا یہ ٹٹہ بھی ویسے ہی منہ سے باہر نکالا، میں بولا " رشیداں بہت مزے کے ٹٹے چوستی ہو" تو وہ بولی" بابو آج کے دور میں کامیاب ہونا ہے تو ٹٹے اٹھانا سیکھ لو" بات تو اسکی ٹھیک تھی، خیر اب رشیداں میرے لن پر چاروں طرف سے زبان پھیر رہی تھی جیسے قلفی چاٹی جاتی ہے، آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، وہ بولی " بابو کیا مست لوڑا ہے کسی بھی چھوکری کی پھدی سے رال ٹپکا دے" میں بولا" رشیداں میرا نام احمد ہے، تم احمد ہی بولو" وہ بولی" احمد کیسا لگ رہا ہے؟ " میں بولا مزا آ رہا ہے، اب اس نے میرے لن کے ٹوپے پر زبان پھیری اور ساتھ ہی ایک عجیب حرکت کی، پہلے وہ زبان سے چاٹ رہی تھی جب کی اب اس نے اپنے نیچے والے ہونٹ سے لن کا ٹوپا چاٹنا شروع کر دیا،میری تو جیسے جان ہی نکل گئی، میں بولا" رشیداں کہاں سے سیکھا ہے یہ سب؟" تو وہ ٹوپا چاٹتے ہوئے بولی" احمد، تم نے کہا نا میں بھکارن نہیں لگتی، میں مجبوری میں یہ سب کر ریی ہوں، گھر کے مرد نشہ کرتے ہیں اور نشے کے لیۓ پیسے ہم سے مانگتے ہیں نہ دو تو مارتے پیٹتے ہیں کیونکہ وہ "مرد" ہیں، اتنی بھیک تو کوئی نہیں دیتا کہ گھر کا خرچ بھی چلے اور مردوں کے نشے بھی پورے ہوں، اس لیے ہمارے منہ میں کسی کا لن تو کسی کا ٹٹہ، اب تو تجربہ ہو چکا ہے، تب ہی تو پیسے ملتے ہیں، یہ جو لوگ محلے میں بھاشن دے رہے ہوتے ہیں سب کے نیچے لیٹ کے پھدی مروا چکی ہوں، شریف وہی ہے جس کو موقع نہیں ملا" میں بولا افسوس ہوا تمہاری باتیں سن کے، لیکن تمہاری ایک ایک بات سچی ہے، وہ بولی" احمد بابو تم پریشان ہونا چھوڑو، زندگی گزارنی ہے تو چودنا سیکھ لو یا چدنا سیکھ لو" اس کی اس بات پر مجھے ہنسی آ گئی، ،،،،وہ پھر سے ٹوپا چوسنے لگی، اب اس نے زبان کی نوک بنائی اور لن کے سوراخ میں ڈالنے لگی، میں پھر سے آہیں بھرنے لگا، رشیداں بولی" احمد میں تمہارا لن چوسنے لگی ہوں" لن بھی اب لوہا بن چکا تھا، رشیداں نے منہ کھولا اور میرا لن اپنے منہ میں ڈال لیا اور سر اوپر نیچے کر کے چوسنے لگی، مجھے اس کے منہ کی گرمی اور نرمی اپنے سخت لن پر محسوس ہو رہی تھی، اس نے لن باہر نکالا اور بولی" احمد میرے منہ کو چودو" یہ کہہ کر اس نے دوباری لن منہ میں ڈالا اور چوپا لگانے لگی، اب میں نے بھی نیچے سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے، اس طرح میرا لن رشیداں کے گلے تک جانے لگا، وہ خود بھی جنگلی بلی کی طرح تیز تیز سر اوپر نیچے کر کے لن منہ کے اندر باہر کر رہی تھی، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے لیکن اسے کوئی پرواہ نہیں تھی، میں بھی اس کی خواہش پر اس کا منہ چود رہا تھا، کافی دیر چوپے لگانے کے بعد اس نے لن باہر نکالا اور میری جھانٹیں دیکھنے لگی جو کہ کافی بڑی تھیں اور میری طرف مسکراتے ہوئے بولی" گندہ" اور پھر اچانک ہی اس نے میری جھانٹوں پر زبان پھیرنا شروع کر دی، مجھے ایک الگ ہی مزا آنے لگا، تھوڑی دیر جھانٹیں چاٹنے کے بعد اور تھوک سے گیلی کرنے کے بعد وہ اوپر اٹھیاور میں نے اسے چارپائی پر لٹایا اور اس کے سینے پر چڑھ گیا، اس کے مموں کے بیچ تھوک پھینکا اور لن مموں کے بیچ رکھ دیا، وہ بولی " ددھ وی چود" اس نے اپنے ممے سائڈ سے پکڑ کر لن پر دبائے اور میں اپنا لن اس کے مموں کے بیچ آگے پیچھے کرنے لگا، واہہہہہاااااااااااہہہہہہہہ،،،،، آآآآہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ، نرم نرم مموں پر سخت لن لگ رہا تھا بہت مزا آ رہا تھا‫ ، میرے لن کا ٹوپا رشیداں کے ہونٹوں پر جا کرلگ رہا تھا، اس نے زبان باہر نکال لی، اب جب لن مموں کے بیچ سے ہو کر آگے جاتا تو لن کا ٹوپارشیداں کی زبان پر لگتا، یہ نظارہ بھی بہت مزے کا تھا، پھر میں نے اسے الٹا ہونے کو کہا تو وہ الٹا ہوتے ہوۓ بولی" احمد، بنڈ وی ماریں گا؟ " (گانڈ بھی مارو گے؟) میں نے کہا تم مرواؤ گی؟ تو بولی، پیسے لوں گی تو سب کرنا پڑے گا، اب میں اس کی 38سائز کی گانڈ کے اوپر بیٹھا ، اس کے کولہے کھولے، بیچ میں تھوک پھینکا ( اگرچہ لوگ تیل اورکریم بھی لگاتے ہیں چدائی کے وقت لیکن جو تسکین کسی کو تھوک لگانے میں ملتی وہ کسی اور چیز سے نہیں ملتی، آپ کسی کو تھوک لگاتے ہو کوئی آپ کو لگا جاتا ہے)، اور کولہوں کی لائن میں لن رکھ دیا، اور جیسے ممے چودے ایسے ہی رشیداں کےکولہے سائڈ سے دباۓ اور لن گانڈ کی لکیر میں آگے پیچھے کرنے لگا، آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ ہم دونوں کے منہ سے بس یہی نکل رہا تھا آہہہہہہمممممممممممم اہمممم اہہہہہہہہہہہہہہہ اہہہہہہہہہہہیہہہہہ‫‫‫،،،،،،،،،،،،،،ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی رشیداں کے کولہوں میں لن رگڑتے کہ رشیداں بولی" احمد، بنڈ نوں چھوڑ، میری کس مار، کسسسسسس وچ للا پاااااااا،،،، " میں نے لن کولہوں سے ہٹایا اور اسے سیدھا کیا تو وہ جلدی سے اپنی ٹانگیں اٹھا کر بولی" ہن صبر نئ تھیندا احمدا، بس یہہ مینوں، لوڑا کس وچ کر" ( اب صبر نہیں ہوتا چودو بس، لن پھدی میں ڈالو) ،،پھدی بہت سا پانی چھوڑ چکی تھی، میں نے بھی مزید دیر نہ کی اور اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا، پہلے میں نے اپنے ٹٹے رشیداں کی پھدی پر رکھ کر رگڑے، اچھی طرح پھدی کا پانی لگنے کے بعد لن پھدی پر رکھ کر پھدی کے پانی سے گیلا کیا اور پھدی کے ہونٹوں پر رکھ کر زوررررررررررررررر کا جھٹکا مارا، جتنی گیلی پھدی تھی اور جتنے زور کا جھٹکا میں نے مارا تھا، پوووووووووررررررررررراااااااااااا لننننننننننننننننن پھدییییی کے اندررر تھا،،،، رشیداں کا تو ایک بار سانس رک گیا لیکن پھر گہرا سانس لینے کے بعد اس نے مجھے زور سے پکڑا اور نیچے سے پھدی اچھال کر لن پر مارنے لگی، میں نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، زور زور کے جھٹکے مارنے لگا، کمرے میں ہم دونوں کے جسم کے ٹکرانے سے تھپ تھپ تھپ تھپ تھپ تھپ کی آواز آ رہی تھی،، میں نے رشیداں کے ممے زور سے پکڑ لیے اور زور زور سے اس کی پھدی مارنے لگا، وہ بھی کافی گرم تھی( پڑھنے والے بھی کم گرم نہین اب) تھوڑی دیر ایسے چودے کے بعد میں نے اسے اٹھایا اور ڈوگی سٹائل میں ہونے کو کہا، وہ جھکی اور میں نے اس بار بھی اس کی چکنی پھدی پر لن رکھ کر ایک ہی زور کے جھٹکے میں پورا لن رشیداں کی پھدی میں اتار دیا، ،، .

Comments

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
    Replies
    1. بنڈ مارنی ہو اگر اپکی تو

      Delete
  2. جو لڑکیاں اور عورتیں سیکس کا فل مزہ رٸیل میں فون کال یا وڈیو کال اور میسج پر لینا چاہتی ہیں رابطہ کریں 03488084325

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog