دوپہر کی شہزادی . . قسط نمبر دو . وہ بولتی جاتی تھی،،، """ احمد کس ماااررررررر کسسسسسسسسسس مار میری،،، یہہ مینوں، زور نال چود، للاااااااااااا پااااا پاڑ دے پھدی،،،،، """"" اور پتا نہیں کیا کیا کہہ رہی تھی، اتنا ہوش کسے تھ ا،، اسکی پھدی کا پانی اس کی ٹانگوں سے بہتا ہوا نیچے جا رہا تھا، اس کی نرم نرم گانڈ میرے پیٹ پر لگ رہی تھی، تیز تیِ لن پھدی کے اندر باہر ہر رہا تھا جس کی وجہ سے پھدی سے پچ پچ پچ پچ پچ پچ پچ کی آواز آ رہی تھی، اب مجھے لگا میں فارغ ہونے لگا ہوں، میں نے رشیداں ہو بتایا تو وہ بولی" احمد فکر نہ کرو، میں نے آپریشن سے بچہ دانی نکلوا دی تھی، جس قسم کا میرا کام ہے اس کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا، " میں اب پوری جوش سے اس کی چوت مار رہا تھا، اور پھر ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ میں لن کا پانی رشیداں کی پھدی میں چھوڑتااااااا گیااا ،،،،،،، چھوڑتا گیا ،،،،،،،،،چھوڑتا گیااااا،،،،،،،،،رشیداں نے بھی پھدی بھینچ لی تھی اور لن جکڑ لیا، اس نے بھی بہت سا پانی نکالا اور آگے کی طرف گر گئی میں نے کیونکہ اس کو پیچھے سے پکڑا ہوا تھا اس لیے اس کے ساتھ ہی اس کے اوپر گر پڑا، میرا لن ابھی بھی رشیداں کی پھدی میں تھا اور یلکے ہلکے جھٹکے کھا رہا تھا، جتنا آج میں نے لن کو پھدی کے لیئے ترسایا تھا اس کا اتنا ڈھیر سارا پانی نکالنا اور جھٹکے کھانا بنتا بھی تھا،،،،،، پھر ہم دونوں اٹھے، میں نے اسے پیسے دیے ،وہ بولی" میرے رشک قمر ،تونے شکر دوپہر ، یوں چدائی لگائی،مزا آ گیا، " پھر کب آؤں؟" میں نے کہا یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ کب موقع ملے، اگر موقع ملا تو بتاؤں گا،،،، یہ کہتے ہوۓ میں اسے باہر چھوڑنے گیا تا کہ باہر کی کنڈی لگا سکوں کہ اچانک میں نے دیکھا پڑوس والی آنٹی چھت پر کپڑے ڈالتے ہوئے ہماری ہی طرف دیکھ رہی تھی،، . .پھر کیا ہوا؟ یہ جاننے کے لیے جڑے رہیں ہاٹ پرندا کے ساتھ‫‫

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog